Impact of Iran War The US-Israeli conflict is putting a lot of pressure on the UAE
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سی این این کی خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور اس صورتحال کا سب سے زیادہ دباؤ متحدہ عرب امارات پر پڑ رہا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یو اے ای کی جانب 1700 سے زائد میزائل اور ڈرون فائر کیے جا چکے ہیں جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض میزائل گنجان آباد شہری علاقوں میں گرے جس کے نتیجے میں چار شہری ہلاک ہوئے جبکہ دبئی سمیت مختلف شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عالمی میڈیا میں دبئی کے قریب دھماکوں اور دھوئیں کی تصاویر بھی سامنے آئیں جس سے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے عرب پڑوسیوں کو نشانہ بنانے کی شدت اس جنگ کا سب سے حیران کن پہلو ثابت ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کی تقریباً 60 فیصد فوجی طاقت خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جبکہ باقی حملے اسرائیل کی جانب کیے جا رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے حالیہ حملوں میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے دوران سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دشمن یو اے ای کی ظاہری نرمی کو کمزوری نہ سمجھے، کیونکہ ملک اپنی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس کے بعد بھی خطے میں مزید حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں جس سے کشیدگی برقرار ہے۔





