Concern in Parliament over emergency measures in Khyber Pakhtunkhwa; response sought from the government.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال، مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صوبے میں آئینی اقدامات پر ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری اور تہران سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

 انہوں نے سوال اٹھایا کہ چار افراد پوری قوم کا مستقبل کیسے طے کر سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال انتشار اور خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اچکزئی نے افغانستان کے ساتھ تجارت معطل کرنے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ افغان عوام روایتی دوست ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی اور خیبر پختونخوا کی صورتحال سے عوام میں منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے موروثی سیاست کے خاتمے پر بھی زور دیا۔

پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا آئینی تحفظات کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق بنیادی حقوق معطل نہیں کیے جا سکتے۔

 انہوں نے عمران خان کی بہن نورین نیازی کے حوالے سے بھی معاملہ اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی کا لاہور میں علاج جاری ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ انہوں نے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم ان کی حراست کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاجی مارچ کے لیے لوگوں کو متحرک کر رہی تھیں۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ صوبہ اس کے عوام سے چھین لیا گیا ہے اور جمہوری اداروں کے لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔

دوسری جانب سینیٹ نے پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کی آبادی سے متعلق قرارداد منظور کرلی، جس میں قومی سطح پر مربوط اقدامات پر زور دیا گیا۔

 قرارداد کے مطابق موجودہ شرحِ نمو برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عوامی خدمات اور دستیاب وسائل پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔