Attempted cross-border infiltration in Kurram foiled; 12 terrorists killed, Pakistan Army soldier martyred.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے نائب صوبیدار ہدایت امان نے جامِ شہادت نوش کیا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق 10 اکتوبر کو سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مسلح عناصر کی نقل و حرکت کا پتا چلایا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دراندازوں کو نشانہ بنایا اور ان کی پاکستان میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد دہشت گرد اور افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے عناصر تھے۔ تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ جھڑپ کے دوران نائب صوبیدار ہدایت امان نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ رپورٹ کیا جارہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 225 رہی، جو اگست میں رپورٹ ہونے والے 199 حملوں سے تقریباً 13 فیصد زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق حملوں میں مسلسل تیسرے مہینے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے قبل شمالی وزیرستان میں بھی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران سات دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

پاکستانی حکام طویل عرصے سے سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کے خدشات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات اور آپریشن عزمِ استحکام کے تناظر میں سیکیورٹی فورسز کے عزم کو دہرایا ہے۔

سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے، جبکہ حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔