اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اردن کے جنوبی گورنریٹ کرک کے گاؤں حمود میں ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ حملہ جمعے کو پیش آیا، جبکہ وزیر صحت ابراہیم البدور کے مطابق زخمیوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
اردن کی حکومت نے واقعے کو نامعلوم مسلح افراد کا حملہ قرار دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی المملکہ کے مطابق فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز فوری طور پر چرچ پہنچیں اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک گاڑی میں سوار مسلح افراد نے چرچ کے قریب پہنچ کر تقریباً پانچ منٹ تک مسلسل فائرنگ کی اور پھر فرار ہوگئے۔
شاہد کے مطابق واقعے کے وقت چرچ کے اندر اور اطراف میں 150 سے 200 افراد موجود تھے، جبکہ زیادہ تر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔ چرچ میں موجود درغام حلاسہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنازہ شروع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد شدید فائرنگ ہوئی، جس کے بعد لوگ جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔ انہوں نے خود حملہ آوروں کو نہیں دیکھا، تاہم دیگر افراد نے چار مسلح افراد کی موجودگی کا ذکر کیا۔
سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں چرچ کے داخلی راستے پر حملہ دکھائی دیا۔ فوٹیج کے مطابق دو حملہ آوروں کے پاس پستول تھے، جبکہ ایک شخص رائفل اٹھائے ہوئے تھا اور اس نے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو گولیوں کے ذریعے تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو سخت ترین جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر اردنی شہری کی جان قیمتی ہے اور ملک کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ شاہ عبداللہ نے زخمیوں کی عیادت بھی کی۔
وزیراعظم جعفر حسن نے کرک میں سکیورٹی اجلاس کے دوران کہا کہ حملہ دہشت گردانہ سوچ اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی اور انتہا پسندی پھیلانے والوں کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ مازن الفریایہ نے بھی واقعے کو انتہا پسندوں کی جانب سے دہشت گرد حملہ قرار دیا۔
حمود کا چرچ یونانی آرتھوڈوکس مسیحی برادری سے تعلق رکھتا ہے، جو اردن کی سب سے بڑی مسیحی برادری ہے۔ مسلم اکثریتی اردن میں مسیحیوں کو نشانہ بنانے والے حملے انتہائی غیرمعمولی ہیں۔
یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس پادری تھیوفیلوس سوم نے حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط کرے گا۔ ملکہ رانیہ نے بھی اسے گھناؤنا جرم قرار دیا۔ سعودی عرب سمیت مختلف ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے حملے کی مذمت کی۔
