اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے ایک روز بعد یو اے ای میں رجسٹرڈ شہری اور فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ الجزائری وزارت دفاع کے مطابق پابندی 11 ستمبر کی نصف شب سے نافذ ہوگی۔
وزارت دفاع نے کہا کہ یہ فیصلہ الجزائر آنے اور یہاں سے روانہ ہونے والے تمام یو اے ای رجسٹرڈ شہری اور فوجی طیاروں پر لاگو ہوگا۔ تاہم الجزائر نے اماراتی کمرشل پروازوں کو عارضی استثنیٰ دیا ہے، جو دارالحکومت الجزائر کے ہواری بومدین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے پروازیں جاری رکھ سکیں گی۔
حکام کے مطابق یہ استثنیٰ 2026 کے اختتام تک برقرار رہے گا، جب متعلقہ فضائی سروسز کا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔
اس سے قبل جمعرات کو الجزائر نے ابوظہبی کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ الجزائر نے اس اقدام کی وجہ یو اے ای کے مبینہ اشتعال انگیز یا دشمنانہ اقدامات قرار دیے، تاہم ان اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
اماراتی صدارتی سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کو معقولیت، رابطے اور مفادات کی وضاحت پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اشاروں اور پہیلیوں پر جنہیں سمجھنے کے لیے وضاحت درکار ہو۔
دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ کئی برس سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ الجزائر نے متحدہ عرب امارات پر خطے میں اختلافات بڑھانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مغربی صحارا کے معاملے پر بھی شدید اختلافات ہیں۔ یو اے ای مراکش کے دعوے کی حمایت کرتا ہے، جبکہ الجزائر پولساریو فرنٹ کی حمایت کرتا ہے، جو مغربی صحارا کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔
الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بھی مخالفت کرتا ہے، جبکہ یو اے ای نے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔
