اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے اسلامی ممالک کے درمیان معاشی یکجہتی، تجارتی مالی سہولتوں تک آسان رسائی اور باہمی تجارت میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔
انہوں نے یہ بات استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے 42ویں وزارتی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جام کمال نے او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹیں، مالیاتی کمزوریاں اور تجارتی تحفظ پسندی عالمی معیشت کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے اسلامی ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر تجارت نے میزبان حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کو سراہا۔
انہوں نے کامسیک کوآرڈینیشن آفس اور او آئی سی کے متعلقہ اداروں کی کوششوں کو بھی کامیاب اجلاس کے انعقاد میں اہم قرار دیا۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ او آئی سی ممالک کے پاس معاشی استعداد، جغرافیائی اہمیت، انسانی وسائل اور قدرتی ذخائر کی صورت میں وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں مضبوط شراکت داری اور مربوط پالیسیوں کے ذریعے مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رکن ممالک نے پائیدار ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی کے شعبوں میں پیش رفت کی ہے، تاہم بدلتے عالمی حالات مزید عملی تعاون کے متقاضی ہیں۔
اجلاس میں باہمی تجارت، ٹرانسپورٹ روابط، پائیدار سیاحت، زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، غربت میں کمی اور ڈیجیٹل تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر تجارت نے اجلاس کے مرکزی موضوع ’او آئی سی رکن ممالک کی برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر تجارتی مالیاتی ذرائع کی تیاری‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سستی، متنوع اور پائیدار تجارتی فنانسنگ برآمدات کے فروغ اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی سہولتوں کے حصول میں پیچیدہ ضابطوں، بھاری ضمانتی تقاضوں، زیادہ اخراجات اور طویل انتظامی طریقہ کار جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔
جام کمال نے اس صورت حال میں قومی قانونی، ضابطہ جاتی اور نگرانی کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا تاکہ سرحد پار لین دین آسان ہو اور تجارتی فنانسنگ تک رسائی بہتر بنائی جاسکے۔
انہوں نے برآمدی قرضوں کی ضمانت کے مؤثر نظام، متنوع مالیاتی ذرائع اور چھوٹے کاروباروں سمیت ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں کی ضروریات کے مطابق نئے مالیاتی انتظامات اپنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
