اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ترکیہ کی پارلیمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق بل منظور کرلیا ہے، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے باضابطہ نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
پارلیمانی ووٹنگ میں بل کے حق میں 279 جبکہ مخالفت میں 119 ووٹ ڈالے گئے۔ ایوان کے مجموعی 592 ارکان میں سے 398 نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔
طویل بحث کے بعد منظور ہونے والے بل کا باضابطہ نام ’ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کا بل‘ ہے۔
حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رکن ضیا آلتونیالدیذ نے بحث کے دوران کہا کہ معاہدے کا مقصد خطے میں سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینا ہے۔
ان کے مطابق یہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے ان کی روک تھام کے لیے ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن مہمت گوزل مانسور نے معاہدے کے دائرہ کار اور نگرانی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واضح قواعد و ضوابط ضروری ہیں تاکہ یہ معاہدہ ترکیہ کی دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم نہ ہو۔
ترکیہ نے 20 اکتوبر کو معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔ ترک آئین کے تحت کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کے باوجود بیرون ملک فوج تعینات کرنے کے لیے پارلیمان کی الگ اجازت درکار ہوتی ہے۔
اس سے قبل 23 ستمبر کو ترکیہ نے لیفٹیننٹ جنرل محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا تھا۔
اس تقرری کے بعد پاکستان کو ابتدائی تین سالہ مرحلے کے دوران اتحاد کے پہلے سیکریٹریٹ کے قیام اور قیادت کی ذمہ داری ملی۔
یہ فیصلہ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان شریک ہوئے تھے۔
معاہدے کے تحت سیکریٹری جنرل سعودی دارالحکومت میں قائم جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔
یہ ادارہ معاہدے پر عمل درآمد، تینوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ سرگرمیوں کی رابطہ کاری اور دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا ذمہ دار ہوگا۔
