اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ملنے والے تحائف کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم نے اس عرصے میں تین درجن سے زائد تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے، جن میں کرغزستان سے موصول ہونے والا ایک ہزار گرام خالص سونا بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو بیرون ملک سرکاری دوروں کے دوران ملنے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔
ایک ہزار گرام سونے پر مشتمل ڈبہ 8 ستمبر کو جمع کرایا گیا۔ یہ تحفہ شہباز شریف کو 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کے سرکاری دورے کے دوران ملا تھا۔
تحائف کی فہرست میں ہاتھ سے تیار کردہ ریشمی اور اون کے قالین، ڈھال، پلیٹ، ٹائی، کف لنکس، خطاطی کا نمونہ، روضۂ رسول ﷺ کا ماڈل، اسکائی 47 کی پینٹنگ، دیواری آرائش، بیلاروسی شیشے سے بنی آرائشی شے، لکڑی کی پلیٹ اور بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کا ماڈل شامل ہیں۔
دیگر اشیا میں سرامک گلدان، دو اسکارف، زیتون کے تیل کی چار بوتلیں، چھوٹے صابن، عود والا روایتی عطر، گاڑی کا ماڈل، کرغز طرز کی بڑی کمبل، کتابیں، کرسٹل اور کانسی کے گلدان، رومال، تسبیح کے دو سیٹ، چھ کپ اور طشتریاں اور ایک ٹیبل کلاک شامل ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اس عرصے میں سات تحائف جمع کرائے، جن میں دو قالین، تیر اندازی کا سیٹ، موسیقی کا آلہ، فیصل مسجد کا فریم، شطرنج کا سیٹ اور آرائشی شے شامل ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر ریلوے حنیف عباسی اور دیگر حکام نے بھی ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے۔
حکومت نے ستمبر میں توشہ خانہ کے انتظام و ضابطہ کاری کے نئے قواعد جاری کیے، جن کے تحت تمام موجودہ اور آئندہ تحائف کابینہ ڈویژن کی جانب سے کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ اس عمل کے لیے کابینہ ڈویژن کے وفاقی سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی منظوری ضروری ہوگی، جو ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مشورہ بھی لے سکے گی۔
صدر اور وزیراعظم کے علاوہ دیگر عہدیداروں اور وفود میں شامل نجی افراد کو سرکاری امور کے سلسلے میں ملنے والے تحائف اپنے یا اہل خانہ کے لیے قبول کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
