اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی مدت کے لیے اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کرلی۔
ملک کے انتخابی حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والی ان کی کامیابی نے انتخابی اندازوں کو غلط ثابت کیا اور لاطینی امریکا میں دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے رجحان کو بھی دھچکا پہنچایا۔
80 سالہ لولا نے سابق صدر جائر بولسونارو کے بڑے بیٹے اور سینیٹر فلیویو بولسونارو کو شکست دی۔ فلیویو پہلے مرحلے میں مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے تھے اور اپنے والد کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی تحریک کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کررہے تھے۔
لولا کی کامیابی یقینی نہیں سمجھی جارہی تھی۔ بدعنوانی کے سابقہ اسکینڈلز، مہنگائی اور معاشرتی تبدیلیوں کے باعث ان کی ورکرز پارٹی کی مقبولیت متاثر ہوئی تھی۔ ایپ پر مبنی کام کے پھیلاؤ اور ووٹرز کی بدلتی ترجیحات نے بھی یہ تاثر پیدا کیا کہ سابق دھات ساز مزدور اور یونین رہنما نئی نسل سے رابطہ کھو رہے ہیں۔
تاہم انتخابی ماہرین کے مطابق توقع سے بہتر ووٹر ٹرن آؤٹ نے لولا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ تھنک پالیسی کے شریک بانی لیونارڈو بیریٹو نے کہا کہ ووٹرز نے غیر یقینی تبدیلی کے بجائے ایک مانوس راستے کا انتخاب کیا۔ لولا کی حمایت کرنے والی رکنِ کانگریس اریکا ہلٹن نے انہیں ایک بڑا مدبر قرار دیا۔
لولا نے انتخابی مہم میں غربت اور عدم مساوات میں کمی، فلاحی اخراجات اور محنت کش طبقے کی بہتری کو اپنی کارکردگی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ان کی تیسری مدت میں بے روزگاری، ناخواندگی اور جنگلات کی کٹائی میں نمایاں کمی آئی۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ فلیویو بولسونارو کی کامیابی سماجی فلاحی پروگراموں کو متاثر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرورسوخ کے باعث برازیل کی خودمختاری کو کمزور کرسکتی ہے۔
لولا 2003 سے 2011 تک بھی صدر رہ چکے ہیں۔ 2018 سے 2019 کے دوران بدعنوانی کے الزامات پر قید رہنے کے بعد ان کے خلاف فیصلے منسوخ ہوگئے، جس کے بعد انہوں نے 2022 میں جائر بولسونارو کو شکست دی۔ وہ 1980 کی دہائی میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پہلے امیدوار ہیں جو ابتدائی مرحلے میں دوسرے نمبر پر آنے کے باوجود حتمی انتخاب جیتے۔
تاہم نئی مدت ان کے لیے مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔ برازیل میں جمہوریت کی بحالی کے بعد سب سے زیادہ قدامت پسند کانگریس منتخب ہوئی ہے۔ بولسونارو کی لبرل پارٹی اور اتحادی ایوانِ زیریں میں 280 سے زائد اور سینیٹ میں 50 تک نشستیں حاصل کرسکتے ہیں، جس سے قانون سازی اور حکومتی اتحاد برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
