اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کیے جانے کے ایک روز بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مقامی حکومت کے قانون میں ترامیم کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی، جس سے پہلے سے اعلان کردہ انتخابی شیڈول کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن راجہ خرم شہزاد نواز نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ حکومت نے یہ بل رواں سال مارچ میں متعارف کرایا تھا، تاہم کمیٹی کی رپورٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری ہونے کے اگلے روز سامنے آئی۔
مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد کی موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر کارپوریشن کا سربراہ الگ میئر ہوگا اور اس کے ساتھ دو ڈپٹی میئر بھی ہوں گے۔ متعلقہ حدود میں آنے والی یونین کونسلوں کے چیئرمین عمومی ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ چار خواتین، ایک کسان یا مزدور، ایک تاجر یا کاروباری شخصیت، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن کی شمولیت تجویز کی گئی ہے۔
بل میں یونین کونسلوں کی حلقہ بندیاں آبادی میں برابری، تازہ سرکاری مردم شماری اور انتظامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے کی تجویز ہے۔ ایڈمنسٹریٹرز کے اختیارات بڑھانے، انہیں ٹیکس عائد کرنے کی اجازت دینے اور ان کی مدت کے لیے موجودہ چھ ماہ کی حد ختم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ایک ترمیم کے تحت مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد حکومت ایڈمنسٹریٹر مقرر کرکے اسے مقامی حکومت کے اختیارات دے سکے گی۔
کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے ارکان عبدالقادر پٹیل، سید رفیع اللہ، سردار نبیل احمد گبول اور نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، جبکہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے خوشحال خان کاکڑ نے بل پر اختلافی نوٹس جمع کرائے۔
قانون کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ 2015 کا ایکٹ منتخب بلدیاتی نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مجوزہ تبدیلیوں میں دفعات 2، 4، 6، 7، 9، 10، 12، 14، 15، 16، 29، 63، 88 اور 93 شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بدھ کو پولنگ 20 دسمبر کو کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد کی مقامی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوئی، جبکہ قانون کے مطابق انتخابات 120 دن میں ہونا تھے۔ اس دوران حلقہ بندیاں چھ مرتبہ اور انتخابی شیڈول چار مرتبہ جاری کیا جا چکا ہے۔ 9 اکتوبر کو اعلان کردہ سابقہ شیڈول میں پولنگ فروری 2026 میں مقرر تھی۔
حکومت کی جانب سے مختلف وجوہات، جن میں مجوزہ قانون سازی بھی شامل ہے، انتخابات مؤخر کیے جانے کے باعث تقریباً 25 لاکھ شہری منتخب بلدیاتی نظام سے محروم ہیں۔ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما حکومت پر انتخابات سے گریز کا الزام لگاتے رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔
