Trump’s clash with the International Court; ICC terms the move an attack on international law.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کو عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں۔ یہ اقدام عدالت کے ایک سابق جج کو نوبیل امن انعام دیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس سے امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔

آئی سی سی نے پابندیوں کو قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے 125 رکن ممالک سے ادارے کے دفاع کی اپیل کی۔ عدالت کے بیان میں کہا گیا کہ اس کا مستقبل صرف ادارے کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ ان ممالک کی ذمہ داری بھی ہے جنہوں نے اسے قائم کیا۔ بیان کے مطابق یہ معاملہ ایک ادارے سے بڑھ کر بین الاقوامی قانون پر قائم نظام کے تحفظ کا ہے۔

2002 میں قائم ہونے والی عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی پیروی کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی اس کے بعض پراسیکیوٹرز اور ججوں پر پابندیاں لگا چکی ہے، تاہم تازہ اقدام کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔ اس کے تحت عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکا نے روم معاہدے پر ابتدا میں دستخط کیے تھے، لیکن اس کی توثیق نہیں کی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی شہریوں کے خلاف آئی سی سی کی کارروائی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق امریکا عدالت کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل محدود اور کام متاثر کرنا چاہتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں کے نفاذ کے لیے ابتدائی طور پر چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔ ٹیلی مواصلات، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگی اور زیرِ حراست افراد سے متعلق بعض لین دین کو استثنا حاصل ہوگا۔ روبیو کے مطابق یہ انتظام عدالت اور رکن ممالک کو امریکی تحفظات دور کرنے کا موقع دیتا ہے۔

واشنگٹن نے اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات سے متعلق تحقیقات پر عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم آئی سی سی حکام نے امریکی فوجیوں کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی۔ عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نازہت شمیم خان نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد آزاد عدالتی ادارے اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانا ہے، لیکن عدالت اپنی تحقیقات اور مقدمات جاری رکھے گی۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے چھ ماہ کی مہلت کو مذاکرات کا موقع قرار دیا، جبکہ بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے عدالت کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کے بلاکنگ قانون کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔

آئی سی سی 70 سے زیادہ افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس جاری کرچکی ہے، جن میں نیتن یاہو، حماس کے رہنما، روسی صدر ولادیمیر پوتن، سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر اور لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی شامل ہیں۔ کینیا کے صدر ولیم روٹو اور سابق صدر اوہورو کینیاٹا کے خلاف الزامات واپس لیے جاچکے ہیں۔

اسی روز نوبیل کمیٹی نے جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوی پِلّے کو امن انعام دیا، جو 2003 سے 2008 تک آئی سی سی کے اپیلز چیمبر کی جج رہ چکی ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ اعزاز ایسے وقت میں بین الاقوامی عدالتی اداروں کی حمایت کا اظہار ہے جب قانون کے ادارے سیاسی حملوں کا سامنا کررہے ہیں۔

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں بینک اکاؤنٹس بند ہونے، انشورنس ختم ہونے اور سافٹ ویئر خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت کے حکام کئی ماہ سے تیاری کررہے تھے اور مائیکروسافٹ سافٹ ویئر کے بجائے اوپن سورس متبادل اپنانے کے ساتھ بینکاری اور صحت بیمہ کے نئے انتظامات بھی کررہے ہیں۔