Operations intensified in Khyber Pakhtunkhwa; 13 terrorists killed during an operation in North Waziristan.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر  کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سرکاری میڈیا نے بدھ کو سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ تھی۔

پاکستان ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کارروائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

ریاستی سطح پر فتنہ الخوارج کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کارروائی کے درست مقام، دورانیے یا ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز عزمِ استحکام کے وژن کے تحت جاری ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ ایک روز قبل بھی اسی ضلع میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

سیکیورٹی صورتحال کے اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق صوبے میں ضم شدہ اضلاع کو چھوڑ کر اگست میں 54 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی، یعنی ایک ماہ کے دوران حملوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

حالیہ ہفتوں میں بھی مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رہیں۔ 2 اکتوبر کو شمالی وزیرستان میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

30 ستمبر کو میر علی میں 3 جبکہ اس سے ایک روز قبل باڑہ میں 5 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ 28 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔

دوسری جانب 26 ستمبر کو ڈی آئی خان کے درازندہ میں امان میلہ پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہوئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں 8 دہشت گرد مارے گئے تھے۔