اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران افغانستان کے معاملے پر 8واں ماسکو فارمیٹ اجلاس آج روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہوگا، جس میں پاکستان بھی شرکت کرے گا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق خصوصی نمائندہ برائے افغانستان سفیر محمد صادق اور کابل میں پاکستان کے سفیر اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ ماسکو فارمیٹ روس کی قیادت میں قائم ایک علاقائی سفارتی پلیٹ فارم ہے، جس کا آغاز 2016 میں افغانستان سے متعلق سیاسی، سکیورٹی اور معاشی معاملات پر مشاورت کے لیے کیا گیا تھا۔
اجلاس میں افغانستان، روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ موجودہ اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروپس پاکستانی علاقوں میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ افغانستان نے پاکستان کے حالیہ حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے افغانستان کے اندر حالیہ کارروائیوں کو عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کابل نے ان حملوں میں شہریوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
روس بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ روس کے خصوصی صدارتی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملہ ماسکو فارمیٹ میں زیر بحث آئے گا اور روس اس پلیٹ فارم کو دونوں فریقوں کے درمیان مناسب سمجھوتے کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
ماسکو مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب خطے میں افغانستان کی سکیورٹی، سرحدی صورتحال، دہشت گردی، اقتصادی روابط اور علاقائی استحکام کے معاملات اہم سفارتی موضوعات بن چکے ہیں۔
پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف عسکریت پسند سرگرمیوں اور دراندازی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔
