Who will buy PIA's new aircraft The government has cleared up major ambiguity regarding state debt and guarantees.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے واضح کیا ہے کہ نجکاری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے نئے طیارے خریدنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی خودمختار حکومتی ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے قرض کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ حکومت نجی شعبے کو بین الاقوامی فنانسنگ اور سپلائرز تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کرسکتی ہے، تاہم کمرشل خطرات خود برداشت نہیں کرے گی۔

یہ وضاحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین جان جووانووچ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ 24 ستمبر کو ہونے والی ملاقات میں پی آئی اے کے لیے طیاروں اور انجنوں کی ممکنہ فنانسنگ پر بات چیت ہوئی، جبکہ ریفائنری اپ گریڈز اور بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے مالی تعاون بھی زیر بحث آیا۔

رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے بوئنگ کے طیاروں، خصوصاً 787 ڈریم لائنرز میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک امریکی ساختہ مصنوعات، جن میں بوئنگ کے طیارے بھی شامل ہیں، کی غیر ملکی خریداروں کو فنانسنگ فراہم کرنے میں معاونت کرتا ہے۔

حکومت کے مطابق ممکنہ فنانسنگ میں اثاثہ جاتی بنیاد پر قرض کا ڈھانچہ استعمال ہوسکتا ہے، جس میں خود طیارہ فنانسنگ کے لیے بطور اثاثہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے خودکار طور پر پاکستانی حکومت کی ضمانت ضروری نہیں ہوتی۔

خرم شہزاد نے کہا کہ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کاروبار چلانے کے بجائے نجی کمپنیوں کو عالمی منڈی، سرمایہ اور ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری ملکیت اور کمرشل مینجمنٹ کی منتقلی ہے، جس کے باوجود حکومت پاکستانی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔