اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) 24 نیوز کی خبر کے مطابق بلوچستان کے ضلع شیرانی میں سکیورٹی فورسز نے انسانی اسمگلنگ کی مبینہ کوشش ناکام بناتے ہوئے خواتین اور بچوں سمیت 103 افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
24 نیوز کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کارروائی شیرانی کے علاقے ڈنہ سر بائی پاس کے قریب کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر افراد کو علاقے سے منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افغان شہری مبینہ طور پر انسانی اسمگلروں کی مدد سے پاکستان کے راستے ایران اور پھر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد تمام حراست میں لیے گئے افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس حکام کے حوالے کردیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے غیر دستاویزی افغان شہریوں کی مجموعی تعداد 129 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق بلوچستان میں غیر قانونی نقل و حرکت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ شیرانی میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے پشکان میں انسانی اسمگلنگ اور اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنانے پر پاکستان نیوی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
محسن نقوی نے مشترکہ کارروائی میں حصہ لینے والی ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی اور پاکستان کوسٹ گارڈز نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی۔
وزیر داخلہ نے اسمگلنگ کو قومی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ادارے اس لعنت کے خاتمے کے لیے فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رہے گا اور اس حوالے سے کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔
