Preparations underway to close 30 entry points to Islamabad; over 22,000 personnel will be on duty.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کی جانب سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچز اور دھرنوں کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی اور اٹک میں سکیورٹی انتظامات تیز کردیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان اہم رابطہ ضلع اٹک میں 30 ہزار اہلکاروں کو سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

راولپنڈی پولیس نے بھی احتجاج کے دوران مقامی فورس کی معاونت کے لیے مزید 9 ہزار اہلکار طلب کیے ہیں۔

ممکنہ احتجاجی مارچز کو جڑواں شہروں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز بھی قبضے میں لیے جارہے ہیں۔ منصوبے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے 30 داخلی راستے بند کیے جائیں گے، جن میں 11 راستے راولپنڈی کے شامل ہیں۔

اسلام آباد میں تعینات ہونے والی اضافی نفری 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز اور 58 ڈی ایس پیز کی نگرانی میں فرائض انجام دے گی۔ ان افسران کے لیے الگ سے رہائش کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

اٹک میں پنجاب کے مختلف اضلاع، جن میں شیخوپورہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور فیصل آباد شامل ہیں، سے اضافی پولیس فورس طلب کی گئی ہے۔ پنجاب کانسٹیبلری، رائٹ مینجمنٹ پولیس اور دیگر یونٹس بھی اٹک پہنچ رہے ہیں۔

راولپنڈی ضلع میں پولیس اہلکاروں کی تمام اقسام کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک بند کردی گئی ہیں۔ سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کے حکم کے مطابق صرف انتہائی ہنگامی صورتحال میں چھٹی کی اجازت ہوگی۔

ادھر اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے دیگر اضلاع سے بلائے گئے اہلکاروں کے لیے رہائش کا بھی انتظام کیا ہے۔ منصوبے کے تحت 362 پولیس افسران و اہلکاروں کو 13 ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں 132 کمرے فراہم کیے جائیں گے۔

تمام 8 ڈی آئی جیز کو اسلام آباد ہوٹل، میلوڈی جی-6 میں ٹھہرایا جائے گا، جبکہ 10 ایس ایس پیز کے لیے بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں انتظام کیا گیا ہے۔ 40 ایس پیز مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہیں گے۔

اسی طرح 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو کم کرایوں والے مختلف گیسٹ ہاؤسز میں رہائش دی جائے گی۔

دوسرے صوبوں سے اسلام آباد آنے والے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکاروں کے لیے سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپورٹس کمپلیکس، میرج ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں بھی انتظامات کیے جارہے ہیں۔

یہ سکیورٹی تیاریاں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ، کسان اتحاد نے کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے احتجاجی مارچ، جبکہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے۔