اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ سے متاثرہ ایک سات منزلہ رہائشی عمارت رات کے وقت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق عمارت کے ملبے تلے درجنوں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً 100 افراد کے ملبے تلے موجود ہونے کا امکان ہے، تاہم درست تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
امدادی کارکنوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بھاری مشینری اور ضروری آلات کی کمی ہے۔ محدود وسائل کے باعث ریسکیو اہلکار اور مقامی افراد اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ زندہ بچ جانے والوں تک پہنچا جاسکے۔
اقوام متحدہ کے غزہ دفتر کے سربراہ الیساندرو مراکک کے مطابق لوگ ملبے میں اپنے ہاتھوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں تقریباً 400 عمارتیں ایسی ہیں جن کے مزید منہدم ہونے کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر موسم سرما کی بارشوں کے دوران۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ عمارت ان تقریباً 2 ہزار عمارتوں میں شامل تھی جو اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران متاثر ہوئی تھیں۔ جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں نے محفوظ رہائش کی شدید کمی کے سبب ایسی متاثرہ عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
فلسطینی اور اقوام متحدہ کے حکام نے بھاری مشینری کی کمی کا ذمہ دار اسرائیلی پابندیوں کو قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ بھاری مشینری اور دیگر آلات پر پابندیوں کا مقصد مسلح گروہوں کو ان کے استعمال سے روکنا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار رامز الاکبروف نے خبردار کیا کہ لوگوں کو پناہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔
مصر کی امدادی ایجنسی اور بعض اقوام متحدہ کے ادارے بھی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مدد کر رہے ہیں۔
