How did 14 newborns lose their lives Key revelations in the PIMS fire investigation report.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی خوفناک آگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بجلی کی خرابی کو آتشزدگی کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے پیچھے سنگین نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق نیشنل فارنزک ایجنسی کے شواہد میں اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی فراہم کرنے والی کیبل کو آگ لگنے کا سب سے ممکنہ مقام قرار دیا گیا۔ ممکنہ طور پر مقامی سطح پر غیر معمولی حرارت، زیادہ کرنٹ، ہائی ریزسٹنس کنکشن یا کسی دوسری برقی خرابی کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔

رپورٹ نے واضح کیا کہ شواہد سے آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے، آئیسکو کی بیرونی خرابی، آگ سے قبل آکسیجن لیک ہونے یا انکیوبیٹر اور وارمر کو آگ کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تحقیق کے مطابق آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی اور صرف ایک سے دو منٹ میں گہرا دھواں پوری نرسری میں پھیل گیا۔ ایمرجنسی کی اطلاع کیپٹل ایمرجنسی سروس کو تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی، یعنی تقریباً 16 منٹ کا وقفہ سامنے آیا۔

نرسری میں 10 بستروں کی گنجائش کے مقابلے میں 15 ایسے نومولود موجود تھے جو خود سے باہر نہیں نکل سکتے تھے، جبکہ موقع پر صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں۔ کمیٹی نے اسے سنگین آپریشنل عدم توازن قرار دیا۔

رپورٹ میں خودکار دھواں پکڑنے والے نظام، فائر الارم اور اسپرنکلر کی عدم موجودگی، جبکہ نرسری کے لیے باقاعدہ، منظور شدہ اور مشق شدہ ایمرجنسی انخلا کے نظام کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے، وفاقی محتسب، پپمز اور 6 جولائی 2026 کے نرسنگ ہاسٹل فائر سمیت ماضی کی وارننگز کے باوجود جامع اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق فرنٹ لائن عملے کو عمومی طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، جبکہ کسی مخصوص فرد کے خلاف اس مرحلے پر مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔ تاہم اے سی نمبر 2 کی تنصیب و دیکھ بھال، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، سابقہ وارننگز پر عمل نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر کی مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔