اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کارکن کی ہلاکت کے بعد پنجاب کے طے شدہ دورے میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن کے مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل ملک بھر میں سیکیورٹی اقدامات سخت کردیئے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے لیے پنجاب کے 13 شہروں کا دورہ ترتیب دیا تھا تاکہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے قبل پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو متحرک کیا جاسکے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق قافلہ داؤد خیل سے میانوالی، وان بھچراں، قائدآباد، جوہرآباد، خوشاب، شاہپور، سرگودھا، لالیاں اور چنیوٹ سے ہوتا ہوا فیصل آباد پہنچنا تھا، جہاں رات قیام کے بعد لاہور اور پھر مختصر قیام کے لیے شیخوپورہ جانا تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وہ لاہور میں پہلے جاں بحق پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کے گھر جائیں گے، جہاں سے پنجاب اسٹریٹ موومنٹ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی ہے۔ دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش یا اسے ساتھ لے جانے اور ایسی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوگی جو غیر قانونی اجتماع کو ہوا دے سکتی ہوں۔ شادیوں، جنازوں، مذہبی رسومات اور عدالتی و سرکاری امور کو پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بڑے اجتماعات کے حوالے سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اور پابندی کا مقصد شہریوں اور املاک کا تحفظ ہے، نہ کہ سیاسی اختلاف کو دبانا۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے 8 ہزار اور بلوچستان سے 500 پولیس اہلکار طلب کیے ہیں، یوں مجموعی طور پر 23 ہزار 500 اہلکار 20 ستمبر تک تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
راولپنڈی پولیس کے سربراہ حسن مشتاق سکھیرا نے اکتوبر تک تمام پولیس افسران کی چھٹیاں، حقیقی ہنگامی حالات کے سوا، منسوخ کردی ہیں۔
پولیس نے پی ٹی آئی سے وابستہ 179 شخصیات کی فہرست بھی تیار کی ہے، جبکہ ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت متعدد افراد کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن میں پنجاب کے ایک نوٹیفکیشن میں 31 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 14 افراد شامل ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن اسلام آباد میں مسلح کارکن لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت سے منسوب فتنہ الخوارج کے دہشت گرد احتجاج سے فائدہ اٹھا کر ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات شوکت بسرا نے قیادت اور کارکنوں کے خلاف منظم کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چھاپوں کے دوران خواتین سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں نے اشتیاق احمد کی نماز جنازہ کے دوران پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اور جنازے کے جلدی کرائے جانے کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔
