500 freight vehicles detained in Islamabad; goods worth billions at risk

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں کے نام پر مال بردار گاڑیوں اور کنٹینرز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ایسوسی ایشن نے اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ پولیس گزشتہ پانچ روز سے ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں روک رہی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے تقریباً 500 کنٹینر گاڑیاں تحویل میں لی گئی ہیں، جن میں سنگجانی، آئی-9، سہالہ اور ترنول شامل ہیں۔

ان کے مطابق ان گاڑیوں میں اربوں روپے مالیت کا تجارتی اور صنعتی سامان موجود ہے، جس میں برآمد کے لیے جانے والا سامان بھی شامل ہے۔ یہ گاڑیاں کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں بلکہ طے شدہ شیڈول کے تحت سامان منزل تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے خط میں کہا گیا کہ گاڑیوں کو کئی روز تک روکنے سے ٹرانسپورٹرز اور کارگو مالکان کو پہلے ہی نمایاں مالی نقصان ہوچکا ہے، جبکہ مزید تاخیر سے کاروباری آپریشنز متاثر اور وقت کے لحاظ سے حساس سامان خراب ہوسکتا ہے۔

اویس چوہدری نے بتایا کہ بعض کنٹینرز کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر رقم لینے کے بعد چھوڑنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ حکام سامان کے نقصان یا خراب ہونے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، اس لیے ٹرانسپورٹرز کو خود کنٹینرز سے سامان اتارنا پڑا۔

اویس چوہدری کے مطابق اسلام آباد کی انتظامیہ سے ہونے والی بات چیت میں بعض حکام نے ٹرانسپورٹرز پر اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دینے کا الزام بھی لگایا، تاہم انہوں نے کہا کہ کسی فرد کے سیاسی روابط کو پوری ٹرانسپورٹ برادری سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی گاڑیاں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ہوتی ہیں، پولیس کے حفاظتی اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے نہیں۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ تجارتی گاڑیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے زبردستی استعمال کرنے سے ریاستی جبر کا تاثر پیدا ہورہا ہے اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔