September 27 protest 1,000 containers, 15,000 personnel summoned in Islamabad and Rawalpindi

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اعلان کردہ ملک گیر احتجاج سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی اور انتظامی تیاریاں تیز کردی ہیں، جن میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز، اضافی پولیس نفری، انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان اور ممکنہ گرفتاریوں کا منصوبہ شامل ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے احتجاج سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کردی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی مقامی سطح پر تیاریوں، رہنماؤں، کارکنوں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹینرز فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے اور مختلف سائز کے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز طلب کیے گئے ہیں۔ انہیں ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون، داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں 100 سے زائد کنٹینرز پہلے ہی مختلف مقامات پر پہنچائے جاچکے ہیں، جن میں آئی ٹی پی ہیڈکوارٹرز، فیض آباد، ترنول اور سنگجانی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں میں بھی کنٹینرز کی طلب بڑھنے کے باعث قلت پیدا ہوگئی ہے۔ مطلوبہ تعداد دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پولیس متبادل انتظامات کرے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت دیگر صوبوں سے بھی نفری طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اور سندھ پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری اور رینجرز سے مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد اہلکار مانگے جاسکتے ہیں۔

انسدادِ ہنگامہ آرائی یونٹ کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ آنسو گیس کے شیلز، گنوں اور دیگر ضروری سامان کا اسٹاک بھی چیک کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 3 کے تحت 30 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کی 30 روزہ حراست کے احکامات جاری کیے ہیں، جنہیں بعض حالات میں 90 دن تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف ایک شہری کی درخواست بھی زیرِ سماعت ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتجاج سے معمولات زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔