Record heat on mountain before glacier erupts in Nepal, 55-year weather record also broken

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے  اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ نیپال اور چین میں 26 اگست کو تباہ کن سیلاب کا سبب بننے والے گلیشیئر کے حصے کے انہدام سے قبل علاقے میں سال کے اس وقت کے اعتبار سے غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی، جس نے ماہرین کو موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

موسمیاتی اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق 5,200 میٹر یعنی تقریباً 17,060 فٹ کی بلندی پر موجود گلیشیئر کے مقام پر 21 سے 26 اگست کے دوران اوسط درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

یہ درجہ حرارت انتہائی غیر معمولی تھا کیونکہ دستیاب 55 سال سے زائد کے ریکارڈ میں اسی مدت کے دوران وہاں درجہ حرارت کبھی 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں گیا۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ براہ راست ثابت نہیں ہوا کہ شدید گرمی ہی گلیشیئر کے انہدام کی بنیادی وجہ تھی۔

کیلیفورنیا میں قائم آزاد ادارے برکیلے ارتھ کے چیف سائنس دان رابرٹ روڈ نے درجہ حرارت کا تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق حادثے کے مقام پر 21 سے 26 اگست کے دوران اوسط درجہ حرارت 20ویں صدی کے وسط کے مقابلے میں تقریباً 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

روڈ نے حساب لگایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کے بغیر اسی نوعیت کے درجہ حرارت کا سامنا چند ہزار برس میں صرف ایک مرتبہ ہونے کا امکان ہوتا۔

یہ حادثہ لینگ ٹانگ خطے میں ریکارڈ کے مطابق چوتھے گرم ترین موسم گرما کے دوران پیش آیا۔ فرانسیسی ماہر موسمیات ویلری میسون ڈولم کے مطابق شدید گرمی نے پرمافروسٹ پگھلنے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پرمافروسٹ  برف کے سیمنٹ کی طرح چٹانوں کو جوڑے رکھتا ہے اور اس کے پگھلنے سے پہاڑی ڈھلوان زیادہ غیر مستحکم ہوسکتی ہے۔

فرانس کے سی این آر ایس سے وابستہ گلیشیئر ماہر ایٹین برتیے نے بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں حادثے سے پہلے کے دنوں میں نمایاں برف پگھلنے کے شواہد ملے ہیں۔

ان کے مطابق پگھلنے والی برف سے پیدا ہونے والا پانی پہاڑ کی دراڑوں میں داخل ہوکر لینڈ سلائیڈنگ کو آسان بنا سکتا تھا۔

تاہم گرینوبل ایلپس یونیورسٹی کی ماہر ارضیات کرسٹن کک نے خبردار کیا کہ صرف زیادہ درجہ حرارت کو گلیشیئر کے انہدام کی وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ پہاڑ پہلے ہی ’’ٹِپنگ پوائنٹ‘‘ کے قریب پہنچ چکا ہو اور گرمی نے صرف ٹرگر کا کردار ادا کیا ہو۔

دریں اثنا نیپال میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں تین ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں درجنوں مزدور پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔