Afghan medical students studying in Pakistan ordered to return, new admissions banned

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی خبر  کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پاکستان کے مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو نئے افغان طلبہ کے داخلے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

یکم ستمبر کو جاری کیے گئے سرکاری خط میں ان ہدایات کو دہرایا گیا ہے جو پہلی مرتبہ 31 جولائی کو جاری کی گئی تھیں۔ پی ایم ڈی سی کے ایک عہدیدار نے خط کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

ہدایت کے مطابق پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں پہلے سے داخل افغان شہریوں کو افغانستان واپس جانا ہوگا۔ متعلقہ اداروں کو انتظامی کارروائیاں مکمل کرنے، این او سی جاری کرنے اور طلبہ کی روانگی میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران مزید احکامات تک کسی افغان شہری کو نیا داخلہ، پلیسمنٹ، ٹرانسفر، مائیگریشن یا کسی دوسری تعلیمی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔

پی ایم ڈی سی نے یہ نہیں بتایا کہ اس فیصلے سے پاکستان میں کتنے افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ متاثر ہوں گے اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ ڈگری مکمل کرنے کے قریب پہنچنے والے طلبہ کو کوئی استثنا دیا جائے گا یا نہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں افغان شہریوں کی واپسی اور ملک بدری کا عمل تیز کیا جا رہا ہے اور اسلام آباد و کابل کے درمیان تعلقات میں نمایاں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ 2023 کے آخر میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت بڑی تعداد میں افغان شہری واپس افغانستان گئے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ستمبر 2023 سے 31 جولائی 2026 تک پاکستان سے 2.6 ملین سے زیادہ افغان شہری افغانستان واپس جاچکے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جبری واپسی کے حوالے سے بارہا تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔

اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود بعد میں مذاکرات ناکام رہے اور سرحد پر وقفے وقفے سے کشیدگی اور بندش کا سلسلہ جاری رہا۔