اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں ساڑھے چار ماہ سے یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانیوں کے اہلخانہ نے کراچی میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اپنے پیاروں کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کردیا۔
اہلخانہ نے ہفتے کی شب نمائش چورنگی پر احتجاج کیا اور خبردار کیا کہ اگر مغویوں کی بازیابی اور ان کے ٹھکانے سے متعلق واضح معلومات فراہم نہ کی گئیں تو وہ بھوک ہڑتال شروع کردیں گے۔
مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
اہلخانہ اپنے بچوں کے ہمراہ رات گئے تک احتجاجی مقام پر موجود رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے مغوی پاکستانیوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا، جس کے باعث ان کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ حکومت کی یقین دہانیوں سے تھک چکے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، ’اب ہماری برداشت ختم ہوگئی ہے۔‘
اہلخانہ کے مطابق وہ اسلام آباد بھی گئے اور وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں، لیکن ان کے بقول اب تک کوئی ایسا عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے انہیں اپنے پیاروں کی واپسی کی امید مل سکے۔
سرکاری سطح پر اس معاملے پر سفارتی کوششیں جاری رہنے کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔ اگست میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو صومالی حکام اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت کے مطابق مغوی پاکستانی ’ایم ٹی آنر 25‘ کے عملے میں شامل تھے، جسے صومالی ساحل کے قریب قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ محض خطوط، یقین دہانیاں اور وعدے اب کافی نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اس کے بعد بھوک ہڑتال کی جائے گی۔
مغویوں کے خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ انہیں مغوی پاکستانیوں کی صورتحال، صحت اور مقام کے بارے میں بھی واضح معلومات فراہم کی جائیں۔
