New burden of Rs 46 billion on electricity consumers, increase of up to Rs 2.58 per unit

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی صارفین پر تقریباً 46 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا، جس کے تحت جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2.0581 روپے فی یونٹ اضافہ منظور کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 52 پیسے فی یونٹ کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی منظور کی گئی ہے، جس کی وصولی ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے بجلی بلوں میں کی جائے گی۔

نیپرا کے فیصلے کے نتیجے میں ستمبر کے بلوں میں مجموعی طور پر تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑے گا، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں صارفین سے 52 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ وصول کی جائے گی۔

نیپرا نے جولائی 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 2.0581 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی ہے۔ یہ رقم کے الیکٹرک اور ایکس ڈسکوز کے تقریباً تمام صارفین سے وصول کی جائے گی۔

تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین کو اس اضافے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیول ایڈجسٹمنٹ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے صارفین پر بھی لاگو ہوگی۔

ڈسکوز اور کے الیکٹرک جولائی 2026 کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو ستمبر 2026 کے بلوں میں شامل کریں گے۔

جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا مجموعی مالی اثر تقریباً 33 ارب روپے بنتا ہے۔ نیپرا کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی کی خریداری ہے۔

اس کے ساتھ نیپرا نے 12.67 ارب روپے کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی منظور کی ہے۔ یہ رقم تین ماہ کے دوران 0.5194 روپے، یعنی تقریباً 52 پیسے فی یونٹ کی یکساں شرح سے وصول کی جائے گی۔

نیپرا کے حکم کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین پر لاگو ہوگی، تاہم لائف لائن صارفین، انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے بل شدہ یونٹس اور پری پیڈ صارفین اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

تقریباً 12.67 ارب روپے کے اس اضافی بوجھ میں کیپیسٹی چارجز، متغیر آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات، سسٹم کے استعمال کے چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے باعث ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات اور دوسری سہ ماہی کے انکریمنٹل یونٹس پر پی پی پی کی ریکوری میں تبدیلیاں شامل ہیں۔