Pakistan got 3 billion dollars from the world market, preparing to repay the Saudi loan

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو قرض کی واپسی سے قبل عالمی کیپیٹل مارکیٹ سے 3 ارب ڈالر حاصل کرلیے ہیں۔ حکومت نے جمعرات کو دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ جاری کیا، جسے پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی لین دین کے دوران سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ اجرا قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے مطابق حاصل ہونے والی رقم سعودی عرب کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی۔ پاکستان نے اپریل 2026 میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر تین ماہ کے لیے حاصل کیے تھے تاکہ متحدہ عرب امارات کا قرض ادا کیا جاسکے۔ بعد ازاں سعودی عرب نے اس قرض میں مزید تین ماہ کی توسیع کی، جس کی مدت اگلے ماہ ختم ہورہی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کامیاب 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لین دین عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معیشت اور مستقبل کی سمت پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سنگل ٹرانزیکشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معیشت کی بہتری کی بیرونی توثیق بھی ہے۔

بانڈ کی دو ٹرانچز 5.5 سال اور 10 سال کی مدت پر مشتمل ہیں۔ حکومت نے 5.5 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر 7.5 فیصد کوپن ریٹ پر جبکہ 10 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.25 ارب ڈالر 7.9 فیصد فیس ریٹ پر حاصل کیے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں، جو جاری کیے گئے بانڈ سے تقریباً دوگنا ہیں۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے مطابق مارکیٹ ویلیو کے حساب سے 10 سالہ قرض پر حقیقی شرح سود تقریباً 8.25 فیصد بنتی ہے۔ موجودہ شرحیں 2021 کے مقابلے میں زیادہ ہیں، تاہم عالمی مالیاتی حالات بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ 2021 میں پانچ سالہ امریکی ٹریژری کی شرح تقریباً ایک فیصد اور 10 سالہ ٹریژری کی شرح 1.64 فیصد تھی، جبکہ اب یہ شرحیں تقریباً 4.55 سے 4.8 فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔

حکومت کے مطابق یہ قرض محض فوری مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہیں لیا گیا بلکہ تین سالہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی فنانسنگ حاصل کرنا اور قرضوں کے رول اوور کے خطرات کم کرنا ہے۔

پاکستان آئندہ سکوک، روپے میں ڈالر سیٹلڈ بانڈز اور پانڈا بانڈز سمیت دیگر ذرائع سے بھی عالمی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر غور کررہا ہے۔