اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات اسی صورت کامیاب ہوسکتے ہیں جب کابل افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کی حمایت ختم کرنے کے حوالے سے واضح اور قابل تصدیق یقین دہانی کرائے۔
ڈان کےاداریے کے مطابق بدھ کو بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ نے پاکستان اور کابل کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے چین کی کوششوں کا خیر مقدم کیا، تاہم واضح کیا کہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے طالبان حکومت کی جانب سے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
چین کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کی کوششوں کا مقصد اسلام آباد اور کابل کے درمیان رابطوں کی بحالی اور ارمچی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
دفتر خارجہ نے افغانستان کے سفیر کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں حالیہ شرکت اور خطاب کو بھی ’غیر معمولی‘ قرار دینے سے گریز کیا، تاہم موجودہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اس رابطے کو اہم سمجھا جارہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں اور اسلام آباد کے مطابق افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت سرحدی انتظام یقینی بنانے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔
دوسری جانب چین کی سفارتی کوششوں کو پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ بیجنگ افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چین مخالف عسکری گروہ ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ سے نمٹنے کے لیے بھی خطے میں امن کا خواہاں ہے۔
تاہم دفتر خارجہ کے مطابق چین سمیت دوست ممالک کی کوششیں اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہوسکتیں جب تک کابل دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا پختہ عزم ظاہر نہیں کرتا۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے کابل کی جانب سے قابل تصدیق، تحریری یقین دہانی ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
