لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ اگر کسی کو ان سے ذاتی بغض ہے تو وہ ضرور تنقید کرے، لیکن اس کے لیے قومی کرکٹ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
لندن میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے تسلیم کیا کہ ٹیسٹ فارمیٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی خراب رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا جائے گا اور ان کی تذلیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کی بری پرفارمنس کا دُکھ ہے اور اس کے بعد جو فیصلے کیے گئے وہ ناگزیر تھے۔
چیئرمین پی سی بی نے لیجنڈز کرکٹرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بڑے کھلاڑی جب بات کرتے ہیں تو ان کے کلام میں وزن ہوتا ہے اور ان کی رائے کو سنجیدہ لیا جاتا ہے۔
البتہ، انہوں نے طنز کیا کہ جن لوگوں نے زندگی میں خود کچھ نہیں کیا ان کی بے بنیاد تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ سلیکشن اور بہتری کے لیے ہمیشہ پرانے کرکٹرز سے مشاورت کرتے رہتے ہیں۔
موجودہ پوزیشن کا دفاع کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن پانچویں اور ٹی ٹوئنٹی میں چھٹی ہے۔
انہوں نے اس بات کی مثال دی کہ بڑی ٹیموں کو بھی بعض اوقات اپ سیٹ شکستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے جنوبی افریقہ کو نمیبیا اور بھارت کو آئرلینڈ سے شکست ہوئی تھی، لیکن اس سے وہاں کرکٹ ختم نہیں ہو جاتی۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جس طرح ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کامیابیاں سمیٹیں، اسی طرح آنے والے دنوں میں ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہتری لائی جائے گی۔
