اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے مجموعی طور پر 60 ارب روپے سے زائد مالیت کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کے لیے 125 کلومیٹر طویل پائپ لائن، کراچی نیبرہوڈ امپروومنٹ پراجیکٹ، گلگت میں میڈیکل و نرسنگ کالج، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا کیمپس اور اورکزئی میں 53.4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر شامل ہے۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تین منصوبوں کی مجموعی مالیت 11.7 ارب روپے منظور کی گئی جبکہ مزید دو منصوبوں، جن کی لاگت 48.545 ارب روپے ہے، کو منظوری کے لیے ایکنک بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
موجودہ مالی قواعد کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی 7.5 ارب روپے تک کے منصوبوں کی منظوری دے سکتی ہے جبکہ اس سے زائد مالیت کے منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی کی تکنیکی منظوری کے بعد ایکنک کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
گوادر واٹر سپلائی اسکیم کی لاگت پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بلوچستان حکومت کی تجویز کردہ 29 ارب روپے سے کم کرکے 23.82 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ اس طرح تقریباً 5.235 ارب روپے کی بچت ہوگی، جبکہ منصوبے کے ڈیزائن یا دائرہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
پلاننگ کمیشن نے منصوبے کی لاگت میں تقریباً 20 فیصد کمی غیر شیڈول آئٹمز میں کی، جو بنیادی لاگت کا تقریباً 86.7 فیصد یعنی 23.4 ارب روپے بنتے ہیں۔
تاہم منصوبے کی ایکنک سے منظوری کو طلب، ہائیڈرولوجی، پانی کے منبع کی تصدیق، خریداری کی حکمت عملی، زمین کے حصول، آپریشن و مینٹیننس کے خود کفیل نظام اور حقیقت پسندانہ عمل درآمد پلان سے متعلق تکنیکی اعتراضات دور کرنے سے مشروط کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے گوادر میں سیوریج کے پانی کو سمندر میں جانے سے روکنے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پر الگ مطالعاتی جائزہ شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو کراچی جیسی صورتحال سے بچانا ضروری ہے۔
کراچی نیبرہوڈ امپروومنٹ پراجیکٹ کی نظرثانی شدہ لاگت 19.55 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں 85 ملین ڈالر یعنی 16.7 ارب روپے کا عالمی بینک قرض اور سندھ حکومت کی 2.8 ارب روپے کی شراکت شامل ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی نے گلگت میں میڈیکل و نرسنگ کالج کے لیے 4.924 ارب روپے، ڈیفنس کمپلیکس اسلام آباد میں این ڈی یو ایف سی ایس کیمپس کے لیے 2.75 ارب روپے اور ضلع اورکزئی میں زیڑہ سے دبوری تک 53.4 کلومیٹر سڑک کے لیے 4.037 ارب روپے بھی منظور کیے۔
وزیر منصوبہ بندی نے اورکزئی روڈ منصوبے کے لیے موسم سرما سے قبل فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ یہ منصوبہ 2016 سے زیر التوا چلا آرہا ہے۔
