اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز خبر کے مطابق پاکستان بھر میں عید میلادالنبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام اور جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے ، 12 ربیع الاول کے موقع پر ملک میں عام تعطیل اور دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی جبکہ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں مساجد، بازاروں، شاہراہوں اور گلی محلوں کو سبز جھنڈیوں، برقی قمقموں اور دیگر آرائشی سامان سے سجایا گیا، جبکہ سیرت النبی ﷺ کانفرنسز، محافل میلاد، جلوسوں اور خصوصی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے تقریبات میں شرکت کرکے حضور اکرم ﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلوسوں اور اجتماعات کے لیے سکیورٹی اور سہولت کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں قوم پر زور دیا کہ پاکستان کو حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات، خصوصاً اتحاد، عدل، رحم، امن اور مساوات کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کے عزم کی تجدید کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ زندگی کے تمام شعبوں، بشمول حکمرانی، عدل، معیشت، تجارت اور سماجی اقدار کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو اخلاق، سچائی، محبت اور بھائی چارے کی تعلیمات اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے تعصب، فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی اصل طاقت اتحاد، برداشت اور شمولیت میں ہے اور غربت کے خاتمے، تعلیم و تحقیق کے فروغ اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو قومی کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی قوم اور امت مسلمہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی 1500ویں ولادت کا تاریخی موقع عدل، رحم، اخوت، مساوات اور انسانی احترام کے اصولوں کو عملی زندگی میں اپنانے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی، ناانصافی، سماجی بے چینی اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کا حل بھی سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سیرت النبی ﷺ کو انسانیت کے لیے رحمت، رہنمائی اور بہترین ضابطۂ حیات قرار دیتے ہوئے صبر، برداشت، عدل، رحم اور اخوت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی 1500ویں جشن ولادت ﷺ کو خود احتسابی اور تعلیمات نبوی ﷺ سے وابستگی کی تجدید کا موقع قرار دیا۔
اس موقع پر 50ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں معاشرتی رویوں کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ مذہبی رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا بھی اعادہ کیا، جبکہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کو بھی انسانی ہمدردی اور سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق قومی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
