اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پوپ لیو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف جاری تشدد فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہوسکے۔
کاسٹل گاندولفو میں اتوار کو دوپہر کی دعائیہ تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری آبادی کے خلاف بار بار ہونے والے تشدد کے خاتمے کی اپنی اپیل دہراتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ دو ریاستی حل کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ویٹیکن طویل عرصے سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔
پوپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قصرہ گاؤں میں بھی فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے محاصرے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں آبادکاروں نے پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرکے فلسطینیوں پر دباؤ بڑھایا۔
حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مزید فلسطینی زمین پر قبضے کی کوششوں کا حصہ ہوسکتے ہیں۔
فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 150 سے زائد ممالک تسلیم کرچکے ہیں۔ اس مجوزہ ریاست میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے دور میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنا ہے۔
اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی حکومتیں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مغربی کنارہ قبضے میں لیا تھا، تاہم اسرائیلی مؤقف ہے کہ یہ علاقہ مقبوضہ نہیں بلکہ متنازع ہے۔
