Operation against terrorists in Sorab, 18 terrorists killed ISPR

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق بلوچستان کے ضلع سوراب میں سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ 2 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب 12 اگست کی صبح دہشت گرد بارودی مواد سے بھری گاڑی میں نصب گاڑی بردار دیسی ساختہ بم تیار کر رہے تھے۔ اسی دوران دھماکا قبل از وقت ہوگیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی دھماکے میں 8 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں کی جانب سے وہاں ذخیرہ کیا گیا دیگر بارودی مواد بھی دھماکوں کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں قریبی علاقے کے 3 شہری بھی جاں بحق ہوئے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو تلاش کیا جاسکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور انہیں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اس مرحلے میں مزید 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جس کے بعد ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی۔

شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں باقی ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

فوج کے ترجمان ادارے نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام کے وژن کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کارروائی میں سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان کے امن اور عوام کے دشمن ہیں‘‘ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی کارروائی کو سراہتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہیے۔