Election results from Bagh to haveli disputed, demand for re-polling and counting

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد باغ اور حویلی کے کئی حلقوں میں نتائج متنازع ہوگئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے باغ کے ایک حلقے کا نتیجہ جاری کردیا، جبکہ دو حلقوں کے نتائج 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ تک روک دیے گئے۔ دوسری جانب ایل اے-17 حویلی میں مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر محسن عزیز نے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے۔

باغ کے حلقہ  ایل اے-14، جسے دھیرکوٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں جموں کشمیر عوامی دست و بازو پارٹی کے ساجد اقبال عباسی نے 40,522 ووٹ لے کر بھاری کامیابی حاصل کی۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان 19,637 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ مسلم لیگ ن کے راجہ فیصل آزاد نے 3,031 جبکہ پیپلز پارٹی کے راجہ مبشر اعجاز نے 2,748 ووٹ حاصل کیے۔

سردار عتیق احمد خان نے اپنے حریف ساجد اقبال عباسی کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کرنے کا اعلان کیا۔

 ایل اے-15 سینٹرل باغ میں پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر 16,637 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے مشتاق احمد منہاس نے 15,015 اور جماعت اسلامی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر ڈاکٹر محمد خان نے 12,259 ووٹ حاصل کیے۔ غیرحتمی نتائج کے مطابق ضیاء القمر کو 1,622 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ اس حلقے کے 9 پولنگ اسٹیشنز پر 15 اگست کو دوبارہ پولنگ ہوگی، جہاں 5,032 ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔

 ایل اے-16 ایسٹرن باغ میں مسلم لیگ ن کے سردار میر اکبر 19,515 ووٹوں کے ساتھ سردار قمر الزمان کے 16,290 ووٹوں کے مقابلے میں 3,225 ووٹوں سے آگے ہیں۔ اس حلقے کے 14 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ نہ ہونے کے باعث نتیجہ روک دیا گیا ہے، جہاں 7,238 ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔

 ایل اے-17 حویلی میں مقابلہ انتہائی متنازع ہوگیا۔ محسن عزیز نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس پریزائیڈنگ افسران کے دستخط شدہ نتائج موجود ہیں جن کے مطابق وہ 8,600 ووٹوں سے آگے ہیں۔ انہوں نے فارم 24 میں مبینہ ردوبدل کا الزام بھی عائد کیا۔

چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ انتخابی ریکارڈ کمیشن کے دفتر پہنچنے کے بعد معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کے علاقائی صدر شاہ غلام قادر نے بھی معاملے کو بڑی ناانصافی قرار دیتے ہوئے قانونی راستہ اختیار کرنے اور کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت کی۔