Seven years since the abrogation of Article 370 Indian claims exposed, unemployment and unrest persist in occupied Kashmir

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر  کے مطابق بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کو سات سال مکمل ہونے والے ہیں، تاہم دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن، ترقی اور معمول کی زندگی سے متعلق بھارتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر آج بھی معاشی مشکلات، بڑھتی بے روزگاری، سیاسی بے چینی، سخت سکیورٹی اقدامات اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے متعلق خدشات کا سامنا کر رہا ہے۔

یومِ استحصال کشمیر سے قبل جاری ہونے والے تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ بھارت سیاحت اور معاشی اشاریوں کو معمول کی صورتحال کا ثبوت قرار دیتا ہے، لیکن صرف اعداد و شمار علاقے کی حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی، جس کے باعث ہزاروں افراد، خصوصاً سیاحت اور دستکاری کے شعبے سے وابستہ خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجموعی ریاستی پیداوار میں اضافے کے دعوے بھی معاشی مشکلات کو نہیں چھپا سکتے۔ نوجوانوں اور خواتین میں بے روزگاری کی شرح بدستور بلند ہے، جبکہ باغبانی، دستکاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ زمین سے متعلق نئی پالیسیوں اور روزگار کے وعدوں پر بھی مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پائیدار امن صرف ترقیاتی منصوبوں یا معاشی اعلانات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے شہری اور سیاسی حقوق کی بحالی، انسانی حقوق سے متعلق شکایات کا مؤثر ازالہ، تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکرات اور مسئلہ جموں و کشمیر کا حل بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تلاش کرنا ناگزیر ہے۔