اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ انتظامی اور سیاسی نظام کو ملک کے دیرینہ مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر طرزِ حکمرانی، تیز رفتار فیصلوں اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سمیت جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو پاکستان آئندہ بھی انہی مسائل کے گرد گھومتا رہے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ملک گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے ایک جیسے سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام طور پر سیاسی تقاریر سے گریز کرتے ہیں، لیکن موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نظام کی خامیوں پر کھل کر بات کی جائے۔ ان کے بقول موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس برس بعد بھی یہی مسائل زیر بحث ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو ایسا انتظامی ماڈل درکار ہے جو عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر بہتر حکمرانی ممکن نہیں، اسی لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، جس میں تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، کاروباری طبقہ اور سول سوسائٹی شریک ہوں، جبکہ حتمی فیصلہ عوام کی رائے سے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اربوں ڈالر کی برآمدات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن غیر ضروری بیوروکریسی، پیچیدہ سرکاری طریقہ کار اور انتظامی رکاوٹیں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے مطابق کاروباری برادری کو قومی ترقی کا شراکت دار بنایا جانا چاہیے اور پالیسی سازی میں ان کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔
محسن نقوی نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ میرٹ، روزگار، انصاف اور مساوی مواقع چاہتے ہیں۔ اگر ان کی توقعات پوری نہ کی گئیں تو مایوسی بڑھے گی، جبکہ شفاف نظام کی موجودگی میں یہی نوجوان ملک کی ترقی کا رخ بدل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال بڑھتے ہوئے قرضوں اور بجٹ خسارے کے ساتھ نئے مالی سال کا آغاز کرتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف مسلسل محنت کر رہے ہیں، تاہم نظام کی اصلاح کے بغیر صرف انفرادی کوششیں دیرپا نتائج نہیں دے سکتیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملک میں نہ صدارتی نظام لانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ ہی قبل از وقت سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، جبکہ عمران خان سے متعلق تمام معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان کا فیصلہ بھی عدلیہ ہی کرے گی۔
