اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی شپنگ نیٹ ورک سے وابستہ 50 سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی تیل کی تجارت اور پابندیوں سے بچنے کے مبینہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے لگائی گئی ہیں، جس کا تعلق ایرانی شپنگ کاروباری شخصیت محمد حسین شمخانی سے بتایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد، شپنگ کمپنیوں کے عہدیدار، لاجسٹک ادارے، جہاز چلانے والی کمپنیاں اور مختلف ممالک میں قائم متعدد کاروباری ادارے شامل ہیں۔ امریکی قوانین کے تحت ان تمام افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے اور مالی مفادات فوری طور پر منجمد کر دیے گئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ شمخانی نیٹ ورک ایرانی حکومت کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور نئی پابندیوں کا مقصد اسی مالی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے بقول، ایرانی حکومت دھوکے اور خفیہ مالیاتی نظام کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو چلا رہی ہے، جبکہ امریکا اس مالی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد ایران کے اس مبینہ شپنگ نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے جو مختلف ممالک میں قائم کمپنیوں، غیر ملکی شہریوں اور آف شور شیل کمپنیوں کے ذریعے پابندیوں سے بچتے ہوئے ایرانی تیل اور دیگر ممنوعہ اشیا کی تجارت کرتا رہا ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے بلکہ حاصل ہونے والی آمدنی ایرانی حکومت کی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ حالیہ پابندیاں آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بارہا مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا اقتصادی پابندیوں کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی محاذ پر تناؤ مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
