A new formula for collecting fees from ships in the Strait of Hormuz is under consideration, Europe has presented an alternative to Iran's toll tax plan.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوز کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے مستقبل اور بحری سلامتی سے متعلق جاری تنازع کے دوران یورپی ممالک ایک ایسے متبادل منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں سے لازمی ٹول ٹیکس وصول کرنے کے بجائے رضاکارانہ بنیادوں پر نیویگیشن سروس فیس لی جائے گی۔ اس تجویز کو عمان نے برطانوی قانونی ماہرین کی معاونت سے تیار کیا ہے، جسے آبنائے ملاکا ماڈل کا نام دیا گیا ہے۔

مجوزہ ماڈل کے مطابق جہازوں پر لازمی محصولات عائد کرنے کے بجائے بحری نیویگیشن، سمندری تحفظ، آلودگی کی روک تھام اور ہنگامی امدادی خدمات کے لیے رضاکارانہ مالی تعاون حاصل کیا جائے گا۔ یورپی ممالک اور عمان کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی بحری قانون تمام ممالک کو آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے کا حق دیتا ہے، اس لیے کسی بھی ملک کی جانب سے لازمی ٹرانزٹ فیس یا ٹول ٹیکس عائد کرنا عالمی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لندن میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمان کے مندوب خمیس بن محمد الشماخی نے کہا کہ ان کا ملک ایسے رضاکارانہ انتظامات کا حامی ہے جو بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو مزید مؤثر بنائیں، سمندری ماحول کا تحفظ کریں، آلودگی کے خطرات کم کریں اور تصادم، آگ یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس ماڈل سے نہ صرف عالمی جہاز رانی کو سہولت ملے گی بلکہ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے میں اعتماد اور استحکام بھی پیدا ہوگا۔

عمان نے اس منصوبے کی وضاحت کے لیے اپنے قانونی ماہرین ایران بھیجنے کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ تہران کو آبنائے ملاکا ماڈل کے قانونی اور عملی پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان کا دورہ کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز، جہاز رانی کے تحفظ اور مجوزہ منصوبے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ دورہ گزشتہ ایک سے دو ماہ سے جاری مشاورت کا تسلسل ہے اور اس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ سے متعلق امور پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔

ادھر قطر نے ایران کو آبنائے ہرمز پر خصوصی خودمختار اختیارات دینے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف ہوگا۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ اگر ایران کو ایسے اختیارات دیے گئے جو عالمی بحری قوانین سے متصادم ہوں تو اس کا مطلب ہوگا کہ بین الاقوامی برادری ہر اس شدت پسند گروہ کے رحم و کرم پر ہوگی جو مستقبل میں اس اہم بحری گزرگاہ پر قبضہ یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے۔