Xi Jinping will arrive in Pyongyang after seven years, important meeting with Kim Jong-un expected
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چینی صدرشی جن پنگ آئندہ ہفتے شمالی کوریا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دورہ 8 سے 9 جون تک جاری رہے گا اور گزشتہ سات برسوں میں شی جن پنگ کا پیانگ یانگ کا پہلا دورہ ہوگا۔
چین شمالی کوریا کا سب سے اہم سیاسی اور اقتصادی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود پیانگ یانگ کو بڑی حد تک بیجنگ کی حمایت حاصل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کی مجموعی تجارت کا تقریباً 95 فیصد اور برآمدات کا 85 فیصد حصہ چین سے وابستہ ہے۔
جنوبی کوریا کی کیونگ نام یونیورسٹی کے ماہر لم ایول چُل کے مطابق چین مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کو وسعت دے رہا ہے اور خود کو ایک اہم سفارتی قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ان کے بقول بیجنگ شمالی کوریا کو بھی اپنے سفارتی دائرۂ اثر میں مزید فعال کردار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں شمالی کوریا اور روس کے تعلقات میں نمایاں قربت دیکھی گئی ہے، خاص طور پر 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیانگ یانگ نے روس کو فوجی اور دیگر معاونت فراہم کی، جبکہ بدلے میں اسے مالی، عسکری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون حاصل ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ کے دورۂ پیانگ یانگ کا ایک مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر قریبی مشاورت بھی ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنی جوہری صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔




