Delay in Budget 2026-27, government faces concerns from IMF and allies
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی پیشی آئندہ ہفتے تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اخراجات کی تقسیم، ترقیاتی فنڈز، آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات اور اتحادی جماعتوں کے بعض تحفظات تاحال مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے بجٹ کی متوقع تاریخ سے چند روز قبل آئی ایم ایف سے بعض بڑے اخراجاتی شعبوں میں ردوبدل کی اجازت طلب کی، تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے ان تجاویز پر فوری آمادگی ظاہر کرنے کے بجائے حکومت سے تفصیلی جواز طلب کر لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے کی اضافی مالی گنجائش پیدا کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے پنجاب اور سندھ سمیت چاروں صوبوں کے ساتھ مختلف مالی امور پر مشاورت جاری ہے۔ ان معاملات میں این ایف سی ایوارڈ، ترقیاتی اخراجات اور بعض سماجی شعبوں کے مالی بوجھ کی تقسیم بھی شامل ہے۔
ان ہی امور کے باعث قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس نئے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام، معاشی اہداف اور وفاق و صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اب اجلاس رواں ہفتے کے اختتام تک متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ اب 8 یا 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی تاریخ کا انحصار آئی ایم ایف اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ جاری مشاورت کے نتائج پر ہوگا۔
حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی تقسیم پر بھی بات چیت جاری ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق اتحادی جماعتوں کی سفارش کردہ اسکیموں کے لیے 87 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 1.126 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ترقیاتی بجٹ میں مزید 200 ارب روپے اضافے کے لیے مالی گنجائش پیدا کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت پاور سیکٹر سبسڈی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بعض اخراجات میں ردوبدل کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیرف اصلاحات بھی اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان نے پانچ سالہ منصوبے کے تحت اوسط درآمدی ٹیرف کو 20.2 فیصد سے کم کر کے 2030 تک 9.7 فیصد تک لانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ ماہ مزید ٹیرف کمی پر غور جاری ہے، تاہم بعض حلقوں نے اس کے مقامی صنعت اور تجارتی توازن پر ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔




