Russia launches major airstrike on Ukraine, killing 10 people, injuring dozens
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں کے بڑے حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ کیف اور ڈنیپرو سمیت کئی شہروں میں رہائشی عمارتیں، گاڑیاں اور بنیادی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح روس نے دارالحکومت کیف، صنعتی شہر ڈنیپرو اور دیگر علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ حملوں میں رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ صرف دارالحکومت میں 4 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت پر میزائل لگنے کے بعد جزوی طور پر عمارت گر گئی، جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایک 9 منزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگ بھی دھماکوں اور میزائل کے ملبے سے لگنے والی آگ میں بری طرح متاثر ہوئی۔ اوبولون ضلع میں گاڑیوں کو آگ لگ گئی جبکہ ایک کنڈرگارٹن کے قریب بھی آگ بھڑک اٹھی۔
حکام کے مطابق شہریوں نے حملوں کے دوران کیف کے سب وے اسٹیشنز میں پناہ لی، جبکہ شہر بھر میں دھماکوں اور ایئر ڈیفنس کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔
ڈنیپرو اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی شدید حملے ہوئے، جہاں علاقائی گورنر کے مطابق 6 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ گاڑیاں اور ایک بچوں کا کھیل کا میدان بھی متاثر ہوا۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے حملوں سے قبل خبردار کیا تھا کہ روس بڑے پیمانے پر نئی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق روسی حملوں کا خطرہ برقرار ہے اور بڑا حملہ ممکن ہے۔
یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف میں بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچہ زخمی ہوا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر میں 148 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا گیا، جبکہ روس کے کراسنودار ریجن میں آئل ریفائنری پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ سرحدی علاقے بیلگوروڈ میں ایک 11 سالہ بچہ زخمی ہوا۔
کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی فضائی دفاعی نظام نے حملے ناکام بنانے کی کوشش کی۔
روس اور یوکرین کی جنگ، جو 2022 میں شروع ہوئی تھی، اب بھی جاری ہے اور دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ حالیہ حملوں نے جنگ کی شدت اور شہری آبادی پر بڑھتے ہوئے اثرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔




