Trump's decision on Iran deal delayed, differences remain over Strait of Hormuz and nuclear program
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے جلد فیصلہ کیا جائے گا، تاہم جنگ بندی میں توسیع اور مستقل امن معاہدے سے متعلق کئی اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ ڈیل کے تحت اپریل میں ہونے والی جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع دی جائے گی تاکہ مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں دو گھنٹے طویل اجلاس کی صدارت کی، تاہم کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن ابھی اس کی باضابطہ منظوری باقی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی اور جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی واضح ضمانت دینا ہوگی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز فوری طور پر دونوں سمتوں میں آزاد اور بلا رکاوٹ تجارتی آمدورفت کے لیے کھلنی چاہیے۔
تاہم ایران نے امریکی شرائط سے اتفاق کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سکیورٹی سے متعلق فیصلے ایران اور عمان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی امریکی پابندیاں ختم ہونے کے بعد تہران کی شرائط کے مطابق ہوگی۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر بات ہوئی، تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ فی الحال کسی قسم کی مالی ادائیگی یا رعایت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ادھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں قازقستان ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر اپنے پاس رکھنے پر آمادہ ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، خطے سے امریکی افواج کا انخلا اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے۔



