Israel accused of wartime sexual violence, major breakthrough for the UN
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو مسلح تنازعات میں جنسی تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے، جہاں حماس کا نام بھی پہلے سے موجود ہے۔
اسرائیلی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقائق اور زمینی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انہیں ٹیلیفون پر اس فیصلے سے آگاہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں اسرائیل کو ان فریقین کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے جن پر جنگی حالات میں جنسی تشدد اور زیادتیوں کے الزامات ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اقوام متحدہ نے اسرائیل اور روس کو خبردار کیا تھا کہ اگر الزامات سے متعلق خدشات برقرار رہے تو انہیں بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹ میں حماس کو بھی ان گروہوں میں شامل کیا گیا تھا جن پر مسلح تنازع کے دوران جنسی تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔
ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کے برابر قرار دینا اقوام متحدہ کی انتہائی غیر منصفانہ کارروائی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے تمام الزامات کا تفصیلی جواب دیا اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو صورتحال کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر سے تعلقات ختم کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق انتونیو گوتریس نے غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری نہیں کی۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ردعمل میں کہا کہ سیکریٹری جنرل کا دفتر اسرائیل سمیت تمام رکن ممالک کے ساتھ رابطے کے لیے کھلا رہے گا۔



