اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے تیسرے مرحلے کے انتخابات کا شیڈول تبدیل کرتے ہوئے پونچھ اور سدھنوتی اضلاع میں پولنگ مؤخر کردی ہے۔
نئے شیڈول کے مطابق تیسرے مرحلے میں اب باغ اور حویلی اضلاع میں انتخابات ہوں گے، جبکہ اس سے قبل پونچھ ڈویژن کے چار اضلاع میں 11 نشستوں پر 10 اگست کو پولنگ ہونا تھی۔
آزاد کشمیر الیکشن کمشنر کے مطابق تیسرے مرحلے کے حوالے سے نظرثانی شدہ شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ انتخابات کے پہلے دو مراحل بالترتیب 27 جولائی اور 2 اگست کو میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز میں منعقد ہوچکے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 21 حلقوں میں انتخابات ہوئے، جن میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستیں جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں شامل تھیں۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 21 میں سے 15 نشستیں حاصل کرکے برتری حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کو 6 نشستیں ملیں۔
پہلے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) نے 9 حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں جیتیں۔ ان نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ پہلے ہی دعویٰ کرچکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔
تاہم انتخابات کے دونوں مراحل پر پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی اور تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 3 اگست کو جاری ویڈیو پیغام میں انتخابات کو آزاد اور منصفانہ نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں بلٹ انتخابات، خونی انتخابات اور مقتولانہ انتخابات جیسے الفاظ سے تعبیر کیا۔
بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت کی کامیابی کے بعد وفاقی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی ابتدا ہی سے دھاندلی کا بیانیہ بنا رہی ہے اور اگر الزامات ہیں تو انہیں الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
تیسرے مرحلے کے نئے شیڈول کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کی آئندہ سرگرمیاں اب باغ اور حویلی اضلاع پر مرکوز ہوں گی۔
