Trump's important announcement, hopes for a deal with Iran, announcement of temporary suspension of Project Freedom
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو اسکارٹ فراہم کرنے کے فوجی آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست، ایران کے خلاف مہم میں حاصل کامیابی اور جاری سفارتی پیش رفت کے باعث پروجیکٹ فریڈم کو کچھ عرصے کے لیے روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق امریکا نے خلیج میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے اسکارٹ مشن شروع کیا تھا، جسے اب عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھی گئی، اور امریکی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جو حالیہ بحران کے دوران ایک اہم حد سمجھی جا رہی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے یا یہ وقفہ کتنے عرصے تک جاری رہے گا، جبکہ تہران کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
روبیو نے کہا کہ امریکا اپنی فوجی مہم کے بنیادی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق موجودہ اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں اور امریکا ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ادھر ایران نے اس اہم گزرگاہ پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے راستہ بڑی حد تک محفوظ بنا دیا گیا ہے اور متعدد تجارتی جہاز گزرنے کے منتظر ہیں، جبکہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے





