Pakistan's stance prevails, the world rejects Indian narrative
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق حکومت کی اعلیٰ قیادت نے کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی کامیاب حکمتِ عملی، جسے مارکۂ حق قرار دیا گیا، نے نہ صرف ملکی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور سفارتی حیثیت کو بھی مضبوط کیا۔
وزارتِ خارجہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دے کر اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں — خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی — سے اپنی وابستگی واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن نفرت انگیز سیاست کے ذریعے ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے صورتحال کو کشیدہ بنایا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو سنگین اقدام سمجھا جائے گا۔
انہوں نے امریکا، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دوست ممالک کا جنگ بندی میں کردار سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بھی خطے میں امن کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے 120 سے زائد عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھرا ہے جو خطے میں امن کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی جارحیت کا جواب مزید مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آیا، جبکہ عالمی برادری نے بھارتی بیانیے کو مسترد کر دیا۔
تقریب کے دوران دی بیٹل آف ٹروتھ کے عنوان سے ایک کتاب اور دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جس میں مئی 2025 کے واقعات کو اجاگر کیا گیا





