Major revelation on private schools in Islamabad, case of stopping scholarships worth billions comes to light
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے 10 فیصد لازمی اسکالرشپ کوٹہ پر عمل نہ کرنے کا سنجیدہ معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث سالانہ 5 سے 6 ارب روپے تک کی رقم بچائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے دوران سامنے آیا، جہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کی ریگولیٹری اتھارٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں اسکول قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 1,571 رجسٹرڈ نجی اسکولوں میں تقریباً 3 لاکھ 89 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے کم از کم 38,900 طلبہ کو مفت تعلیم ملنی چاہیے، تاہم بیشتر ادارے اس پالیسی پر عمل نہیں کر رہے۔
پیرا نے عدالت کو بتایا کہ اسکولوں سے ڈیٹا طلب کیا گیا ہے اور اس کی تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب درخواست گزار کی جانب سے کیس واپس لینے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس پر قانونی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں یہ اہم مسئلہ بغیر کسی حتمی فیصلے کے دب نہ جائے۔




