Trump's big claim Iran ready for deal, disagreement with allies over Hormuz blockade
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ ممکنہ معاہدے کے لیے آمادہ ہے، تاہم اسی دوران امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس پر عالمی سطح پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ درست افراد کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ ڈیل چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ بیان اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں امریکہ اور ایران کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
امریکی اقدام کے تحت ناکہ بندی پیر کو نافذ ہوئی، جس میں ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی کے قریب آنے والی ایرانی کشتیوں کو فوری طور پر تباہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اہم پیش رفت یہ ہے کہ نیٹو اتحادیوں نے اس امریکی اقدام میں براہِ راست شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع میں نہیں کودے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے متبادل طور پر ایک کثیرالملکی بحری مشن کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہوگا۔




