New wave of violence in Nigeria, Boko Haram attacks target civilians and soldiers
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق نائجیریا کے شمال مشرقی صوبے بورنو میں مشتبہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کرسمس کے روز فضائی کارروائیوں کے بعد اب تک کا سب سے مہلک اسلام پسند حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق دیگر علاقوں سے تھا جو بورنو کے قصبے سابون گاری میں ایک تعمیراتی منصوبے پر مزدوری کے لیے آئے تھے۔ مقتولین کے رشتہ دار نے بتایا کہ جمعرات کے روز مسلح افراد نے اچانک علاقے میں داخل ہو کر مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بورنو میں ایک اور شدت پسند کارروائی میں نائجیرین فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں علی الصبح حملے کے دوران 9 فوجی اور فوج کے ساتھ کام کرنے والی سولین جوائنٹ ٹاسک فورس کے 2 ارکان ہلاک ہو گئے، جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے۔
بورنو صوبہ گزشتہ 17 برسوں سے جاری اسلام پسند بغاوت کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں بوکو حرام اور اس کی اتحادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس کی جانب سے حالیہ عرصے میں فوجی قافلوں اور عام شہریوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نائجیریا کو اس وقت داخلی طور پر شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جب کہ بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس نائجیریا پر عیسائی اقلیت کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد 25 دسمبر کو امریکی افواج نے مبینہ دہشت گرد اہداف پر فضائی حملے کیے۔ نائجیرین حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری ہے، تاہم حالیہ واقعات نے صورتِ حال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔





