New chapter in Pak-China relations Announcement of major collaboration in the mineral sector
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے اسلام آباد میں بدھ کے روز منعقدہ پاک چین منرل کوآپریشن فورم میں دونوں ممالک نے معدنی شعبے میں تعاون بڑھانے اور کان کنی و ویلیو ایڈیشن کو دوطرفہ معاشی شراکت داری کا نیا ستون بنانے پر اتفاق کیا۔
جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والے فورم میں 800 سے زائد شرکاء شامل تھے، جن میں 70 سے زائد چینی کمپنیاں اور 100 سے زیادہ پاکستانی ادارے شامل تھے۔ فورم میں وفاقی وزراء، سفارتکار، ریگولیٹرز اور صنعت کے نمائندے شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ معدنی شعبے کی ترقی پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے اور سی پیک کے تحت حاصل ہونے والے فوائد کی طرح، معدنیات بھی معیشت کو مستحکم کر سکتی ہیں، بشرطیکہ ذمہ دارانہ اور پائیدار ترقی کو ترجیح دی جائے۔
چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ چین پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور مقامی شمولیت اور کمیونٹی ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے سینڈک پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 5,200 سے زائد مقامی کارکن تربیت یافتہ ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان ریگولیٹری مضبوطی، ویلیو ایڈیشن اور عالمی معیار کے مطابق کان کنی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا تجربہ، خاص طور پر ریئر ارتھ، کاپر اسمیلٹنگ اور ریفائننگ میں، پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے موجودہ منصوبوں جیسے سینڈک کاپر گولڈ، ددھر لیڈ زنک اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعاون نئے کاپر گولڈ منصوبوں تک بڑھ رہا ہے اور حکومت پالیسی استحکام اور آسان منظوری کے عمل کے عزم پر قائم ہے۔
فورم کے دوران پاک چین ای-مائننگ پلیٹ فارم کا بھی اجرا کیا گیا، جس سے پاکستان اور چین کے درمیان معلومات کے تبادلے اور سرمایہ کاری میں آسانی متوقع ہے۔ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے، جن میں واہ نوبل، جے ڈبلیو کارپوریشن، ایم سی سی ٹی انٹرنیشنل، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، پاور چائنا انٹرنیشنل اور پاک چین انویسٹمنٹ کمپنی شامل ہیں۔
فورم کے اختتام پر بزنس میچ میکنگ سیشن اور نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں کمپنیوں کو براہِ راست رابطہ کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔




