US-Iran tensions at dangerous juncture, calls for immediate world intervention
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں بڑی طاقتوں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ آبنائے ہرمز میں تنازع کے باعث نہ صرف سفارتی عمل متاثر ہوا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھنے لگا ہے۔
چین نے صورتحال کو انتہائی حساس مرحلہ قرار دیتے ہوئے سمندری راستوں کی بحالی اور استحکام پر زور دیا، جبکہ قطر نے خبردار کیا کہ کشیدگی طول پکڑنے کی صورت میں اس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔ دونوں ممالک نے فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا مذاکرات میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں عارضی توسیع کا اعلان کیا۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی قیادت نے امریکی بحری ناکہ بندی اور اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکی افواج نے بحر ہند میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو تحویل میں لے لیا، جسے ایران نے بحری قزاقی قرار دیا۔ اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرارداد پر بھی دوبارہ غور متوقع ہے، تاہم اس کی منظوری تاحال غیر یقینی ہے۔




